سی ڈی اے بھرتیاں: نسٹ (NUST) کا شفاف ترین انتخابی عمل ‘اپنوں’ کی بھینٹ چڑھنے کا خدشہ

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) میں گزشتہ ایک سال سے جاری بھرتیوں کا عمل، جو ملک کے معتبر ترین ادارے نسٹ (NUST) کی زیرِ نگرانی انتہائی شفافیت کے ساتھ شروع ہوا تھا، اب پراسرار تاخیر اور مبینہ سیاسی مداخلت کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امیدواروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ میرٹ پر پورا اترنے والے نوجوانوں کی جگہ من پسند افراد کو نوازنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

شفافیت کا آغاز: نسٹ کا کڑا معیار

سی ڈی اے نے اس بھرتی کے عمل کو ہر قسم کے دباؤ سے پاک رکھنے کے لیے نسٹ یونیورسٹی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس عمل کی دو اہم کڑیاں تھیں:

  • مشکل ترین ٹیسٹ: مئی 2025 میں نسٹ نے ایک نہایت مشکل اور پیشہ ورانہ تحریری ٹیسٹ لیا تاکہ صرف قابل ترین امیدوار ہی اگلے مرحلے تک پہنچ سکیں۔
  • ٹیکنیکل ایکسپرٹ بورڈ: تحریری امتحان میں کامیابی کے بعد، امیدواروں کو 14 رکنی ٹیکنیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونا پڑا، تاکہ فیصلہ کسی ایک فرد کی پسند کے بجائے اجتماعی مہارت کی بنیاد پر ہو۔

شفاف عمل میں ‘روڑے’ اور جناح کنونشن سینٹر کا معمہ

امیدواروں کے مطابق، انٹرویوز دسمبر 2025 میں مکمل ہو چکے تھے، مگر اب نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں کچھ مخصوص امیدواروں کو جناح کنونشن سینٹر بلائے جانے کی اطلاعات نے اس پورے عمل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ امیدواروں کا سوال ہے کہ جب نسٹ اور ایکسپرٹ بورڈ اپنا کام کر چکے، تو اب یہ متوازی مشق کس لیے کی جا رہی ہے؟

سابقہ انتظامیہ کا کردار اور نئے چیئرمین سے وابستہ امیدیں

ذرائع اور امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ بھرتیوں کے اس عمل میں تاخیر کی بڑی وجہ سابقہ چیئرمین سی ڈی اے کی مبینہ مداخلت اور مخصوص مفادات تھے۔ تاہم، اب سی ڈی اے میں نئی قیادت کی آمد نے امیدواروں میں امید کی کرن پیدا کر دی ہے۔

  • نئے چیئرمین کی شہرت: نئے آنے والے چیئرمین سی ڈی اے اپنی دیانت داری اور نیک نامی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
  • امیدواروں کی اپیل: متاثرہ امیدواروں نے نئے چیئرمین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ سابقہ انتظامیہ کے پیدا کردہ تعطل کو ختم کریں اور نسٹ کی ساکھ کو بچاتے ہوئے میرٹ لسٹ فوری جاری کرنے کے احکامات دیں۔

اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ

امیدواروں نے وزارتِ داخلہ اور ڈی جی (HRD-III) کو بھیجی گئی درخواستوں میں مندرجہ ذیل مطالبات کیے ہیں:

  • فوری میرٹ لسٹ: نسٹ کے ٹیسٹ اور بورڈ انٹرویوز کے نتائج کی بنیاد پر حتمی لسٹ فوری طور پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے۔
  • احتساب: اس شفاف عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں بے نقاب کیا جائے۔
  • ساکھ کا تحفظ: وزیرِ داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے یقینی بنائیں کہ نسٹ جیسے قومی ادارے کی ساکھ پر حرف نہ آئے۔

“یہ معاملہ اب محض چند نوکریوں کا نہیں رہا بلکہ پاکستان کے تعلیمی اور انتظامی اداروں کی ساکھ کا بن چکا ہے۔ اگر نسٹ جیسے ادارے کا میرٹ بھی پامال ہوا تو نوجوانوں کا سسٹم سے اعتبار اٹھ جائے گا۔” — متاثرہ امیدوار

All candidates who are on the top of the merit list should be posted CallLetter_260402_163008 CDA interview interview-listPDF_260402_162916

Comments are closed.